سراپا خدمتِ خلق
حضرت مولانا منظور احمد صاحب رحمہ اللہ
استاذ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان
زیرِ نظر جو تحریر ہے وہ اس ہستی کے بارے میں ہے جس کی ہر حرکت و ادا مخلوقِ خدا کی خدمت کے پیشِ نظر ہوتی تھی۔ میری مراد اس سے حضرت اقدس مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ ہیں۔ خود بندہ کے ساتھ ایک معاملہ اس طرح پیش آیا کہ عمرہ پر روانگی سے قبل بندہ حضرت کے گھر مہمان تھا، روانگی سے ایک دن پہلے بندے کے ساتھ سواری اور ڈرائیور کو بھیجا، ایئر پورٹ پر بندہ نے اپنا پاسپورٹ دکھایا تو مجھے بتایا گیا کہ تمہارا تو نام ہی یہاں درج نہیں، کیونکہ بندہ اپنا نام ’’منظور احمد‘‘ بتلاتا رہا جبکہ پاسپورٹ پر ’’مولانا منظور احمد‘‘ درج تھا۔ شام کو واپسی پر بندہ نے ساری کاوش آکر حضرت والا کی خدمت میں عرض کی تو فرمایا کہ ’’پاسپورٹ مجھے دکھائو‘‘۔ بندہ نے پیش کر دیا، تو فوراً فون پر ایئر پورٹ والوں سے رابطہ کیا: ’’کیا آپ کے ہاں ’’مولانا منظور احمد‘‘ درج نہیں؟‘‘ تو جواباً انہوں نے کہا کہ ساتواں نمبر مولانا کا ہے۔ تو مجھے فرمایا کہ ’’اب آپ مولانا منظور احمد جا کر بتلائیں‘‘ تو ایسا ہی ہوا۔ تو بندہ اگلے دن جہاز پر روانہ ہوگیا۔
اسی طرح کا ایک واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ بندہ کے گھر والے اور بندہ کے سُسر صاحب حج پر جا رہے تھے تو بھائی شاہد صاحب کو ائیر پورٹ پر ساتھ بھیج کر پوری کاروائی سے سبکدوشی کرائی۔ نیز آپ کا یہ بھی احسانِ عظیم رہا کہ جو کتاب بڑی چھوٹی چھاپتے بندہ کو ضرور بھیجتے۔ طبیعت میں حق تعالیٰ نے سخاوت اور خدمتِ خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر رکھ دیا تھا وغیرہ ذلک۔ اللہ رحمت کرے، خوب صفات کے مالک تھے۔ والسلام۔
بندہ منظور احمد
خادم الحدیث والطلباء جامعہ خیر المدارس ملتان
۱۶ ربیع الثانی ۱۴۳۵ھ