واضح رہے کہ اسلامی عبادات مثلاروزہ، حج ، زکوۃ وغیرہ کا تعلق قمری مہینہ سے ہے، اور خصوصا رمضان المبارک کی تو ابتدا ہی چاند دیکھنے پر موقوف ہے،جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے : "فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ " [البقرة: 185] اور اس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک آسان اور عام فہم طریقہ بتادیا کہ چاند دیکھنے پر روزہ رکھو ، اور چاند دیکھنے پر افطار کرو، لہذا روزہ کا مدار چاند کی رؤ یت پر ہے، یعنی اگر چاند نظر آئے تو رمضان شروع ہونے کا حکم ہوگا، اور چاند نظر نہ آئے تو رمضان کا آغاز نہیں ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ میں اس دن پاکستان میں چاند کی عدم رؤیت کی بناء پر روزہ نہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کا پاکستان میں ہوتے ہوئے سعودی عرب کی رؤیت کا اعتبار کرتے ہوئے روزہ رکھنا لازم نہیں۔اگر اس نے یہ روزہ رکھ بھی لیا تو یہ اس کا رمضان کا روزہ شمار نہیں ہوگا۔البتہ وہاں اگر افطاری کے وقت سے پہلے پہنچ جائے تو رمضان کے احترام کی وجہ سے غروب آفتاب تک کھانے پینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
صحيح البخاري-نسخة طوق النجاة (ص: 57)
حدثنا آدم حدثنا شعبة حدثنا محمد بن زياد قال سمعت أبا هريرة - رضي الله عنه - يقول قال النبي ? أو قال قال أبو القاسم ? صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غبي (غبي-أغمي-غم) عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين
سنن الترمذي (3/ 76)
حدثنا علي بن حجر حدثنا إسماعيل بن جعفر حدثنا محمد بن أبي حرملة أخبرني كريب : أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام قال فقدمت الشام فقضيت حاجتها واستهل على هلال رمضان وأنا بالشام فرأينا الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة في آخر الشهر فسألني ابن عباس ثم ذكر الهلال فقال متى رأيتم الهلال ؟ فقلت رأيناه ليلة الجمعة فقال أأنت رأيته ليلة الجمعة ؟ فقلت رآه الناس وصاموا وصام معاوية قال لكن رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما أو نراه فقلت ألا تكتفي برؤية معاوية وصيامه ؟ قال لا هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب والعمل على هذا الحديث عند أهل العلم أن لكل أهل بلد رؤيتهم