نوٹس پیریڈ مکمل کیے بغیر مکان خالی کرنے اور باقی کرایہ کی واپسی کا حکم
سوال
مکان کے کرایہ داری معاہدہ میں جانبین کی طرف سے معاہدہ ختم کرنے اور گھر خالی کرنے کا ہر دو جانب سے ایک مہینہ کا نوٹس ہوتا ہےتاکہ اس ایک مہینے میں دونوں کے مفادات یعنی کرایہ دار کی رہائش اور مالک مکان کے کرایہ کی پوری رقم کا تحفظ ہوسکےاگر مالک مکان نے معاہدہ کی رو سے ایک مہینہ کا نوٹس دیا خالی کرنے کیلئےکہکرایہ دار 30 تاریخ تک مکان خالی کردے لیکن کرایہ دار معاہدہ کے مطابق نوٹس پیریڈ کے 30 دن مکمل کرنے کے بجائے اس نوٹس پیریڈ کے پہلے 5 یا 10 دن میں ہی گھر خالی کردےاورمالک مکان سے باقی 25 ایام کے کرائے کی واپسی کا تقاضا کرےتو کیا یہ جائز اور مناسب ہوگا جبکہ معاہدے کے مطابق 30 دن کے نوٹس پیریڈ سے پہلے قانونا مالک بھی کسی طور بھی یکطرفہ طور پر کرایہ دار کو بے دخل نہیں کرسکتاکیا اس صورت میں اگر کرایہ دار نوٹس پریڈ کے شروع کے 5 یا 10 دنوں میں خالی کرکے 20 ایام کے کرایہ کا تقاضا کرےتو کیا مالک مکان کو 25 دن کا کرایہ واپس کرنا چاہئیےاورکرایہ دار کے نوٹس پیریڈ مکمل کئے بغیر اس یکطرفہ عمل کی کیا حیثیت ہوگی
جواب
واضح رہےکہ عقد اجارہ شرعاعقدلازم ہے، جو کسی ایک فریق کے یک طرفہ طور پر ختم کرنے سے ختم نہیں ہوتا، بلکہ قبل از وقت اسےختم کرنے کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی ضروری ہے۔ اگر عقد میں باقاعدہ یہ شرط رکھی گئی ہو کہ کسی فریق کی جانب سے ایک ماہ کا نوٹس دینے کے بعد اجارہ ختم ہوجائے گا، تو اس شرط کے مطابق نوٹس کی مدت پوری ہونے پرہی اجارہ ختم ہوگا۔ اگر مالک مکان معاہدے کے مطابق مکان خالی کرنے کے لئےایک ماہ کا نوٹس دے اور کرایہ دار سے مہینہ کے اختتام تک مکان خالی کرنے کا کہے، تو اس ایک ماہ کی مدت کے دوران اجارہ برقرار رہے گا۔ کرایہ دار اس مدت میں مکان کے استعمال کا حق رکھتا ہے اور اس کے عوض مقررہ کرایہ لازم ہوگا۔ لہذااگر کرایہ دار نوٹس کی مدت مکمل ہونے سے پہلے مکان خالی کردے اور بقیہ دنوں کے کرایہ کی واپسی کا مطالبہ کرے،جبکہ مالک مکان مہینہ ختم ہونے سے پہلے اس معاملہ کے ختم کرنے پر راضی نہ ہو اور نہ وہ کرایہ دارسے قبضہ واپس وصول کرے تو محض اس کے مکان خالی کردینے سے باقی مدت کا اجارہ ختم نہیں ہوگا ،اور نہ ہی اسے باقی مدت کے کرایہ کی واپسی کے مطالبہ کا حق ہوگا۔ لہذا صورت مسئولہ میں کرایہ دار نے مالک مکان کی طرف سے مکان خالی کرنے کے نوٹس کے بعد مہینہ ختم ہونے سے پہلے گھر خالی کیا ہے ،تو اگر مالک مکان اس پر راضی نہیں ہے اور وہ مہینہ مکمل ہونے سے پہلے دوسرے کرایہ راد کو مکان کرایہ پر نہ دے اور نہ ہی مکان اپنے قبضہ میں لے تو اس صورت میں کرایہ دار کو بقیہ مدت کے کرایہ کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہے۔لیکن اگر مالک نے مکان اپنے قبضہ میں لے لیا ہے تو کرایہ دار بقیہ ایام کے کرایہ کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ بدائع الصنائع، دارالكتب العلمية (4/ 201) وأما صفة الإجارة فالإجارة عقد لازم إذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء، فلا تفسخ من غير عذر وقال شريح: إنها غير لازمة وتفسخ بلا عذر؛ لأنها إباحة المنفعة فأشبهت الإعارة، ولنا أنها تمليك المنفعة بعوض فأشبهت البيع وقال - سبحانه وتعالى - {أوفوا بالعقود} [المائدة: 1] والفسخ ليس من الإيفاء بالعقد وقال عمر: - رضي الله عنه - " البيع صفقة أو خيار " جعل البيع نوعين: نوعا لا خيار فيه، ونوعا فيه خيار، والإجارة بيع فيجب أن تكون نوعين، نوعا ليس فيه خيار الفسخ، ونوعا فيه خيار الفسخ؛ ولأنها معاوضة عقدت مطلقة فلا ينفرد أحد العاقدين فيها بالفسخ إلا عند العجز عن المضي في موجب العقد من غير تحمل ضرر كالبيع. فتویٰ نمبر :35339
دارالافتاء :معہد الخلیل الاسلامی بہادرآباد کراچی
اجارہ کے احکام |